English
If you think that it is not only difficult but also impossible for educated people to get a job these days, then get rid of this illusion. If you want to get a job in Pakistan, there are thousands of facilities for you. My father is still working. He is an electrical engineer. Not just today, but since I was born, I have seen him working. According to him, he has been working since he was my age, that is, since the age of 18. During this period, he has not only changed jobs but also entire sectors. He was first a shopkeeper who worked with his father, his father was my grandfather. After that, he started working as a landowner and had to go into farming. After that, he became an engineer, where time took him. We believe that one cannot get a job without a recommendation. In terms of the government, this is most likely correct because we are familiar with it. My cousin, who is in 12th grade, also claims that it is difficult to get a job in the government because family businesses operate here. After the father retired, he gave his son a seat in his current position, and when the son retired, he gave that seat to his son, nephew, or another close relative. You are simply defaming the word recommendation. This poor person bears no responsibility or role in it.
Urdu
اگر اپ یہ تصور کرتے ہیں کہ اج کل پڑھے لکھے لوگوں کو جاب ملنا صرف مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے تو اپ اس وہم سے نکل ائیں پاکستان میں اگر اپ نوکری کرنا چاہتے ہیں تو اپ کے لیے ہزاروں سہولتیں موجود ہیں میرے والد صاحب اج تک نوکری کرتے ہیں وہ ایک الیکٹریکل انجینئر ہیں اج سے نہیں بلکہ جب سے میں پیدا ہوئی ہوں تب سے میں نے انہیں کام کرتے دیکھا ہے. انہوں کی زبانی وہ تب سے نوکری کر رہے ہیں جب سے وہ میرے جتنے تھے یعنی 17یا 18 سال کی عمر سے اس دور میں انہوں نے نہ صرف نوکریاں بلکہ پورے کے پورے شعبے کو بدلا ہے وہ پہلے ایک دکاندار تھے جو کہ اپنے والد صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے ان کے والد صاحب میرے دادااس کے بعد وہ زمیندار کا کام کرنے لگ گئے اور کھیتی باڑی میں جانا پڑا اس کے بعد انجینیئر وقت انہیں کہاں سے کہاں لے گیا.ہماری یہ سوچ کے سفارش کے بغیر نوکری نہیں ملتی گورنمنٹ کی حد تک تو یہ بات شاید درست ہے کیونکہ ہم اپنی حکومت کو تو جانتے ہی ہیں یہ بات تو میری بارویں کلاس میں موجود کزن بھی کہتی ہے کہ گورنمنٹ میں نوکری ملنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں پر خاندانی نوکریاں چلتی ہیں کہ والد صاحب کے نے اپنی موجودہ پوسٹ پر ریٹائرہونے کے بعد اپنے بیٹے کو بٹھا دیا اور بیٹے نے ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنے بیٹے کو ,بھانجے کو, یا کسی پاس کے رشتہ دار کو وہ سیٹ دے دی اپ ذرا سر لفظ سفارش کو بدنام کر رہے ہیں اس بیچاری کا اس میں کوئی قصور اور رول ہے ہی نہیں
On the other hand, private companies will never hire people based on recommendations because everyone works for himself or his loved ones, and people tend to do what benefits them. Such institutes or companies work for the benefit of the company. If top-level executives from private companies are recommended to join the institute, their productivity will suffer. Those in high-level positions will also be affected. To save their jobs, they must demonstrate it by increasing production. For this, they only want those who are capable of joining their company and meet their standards. The point here is that there is a flaw in our educational system that leads us away from such companies and forces us to rely on recommendations for jobs.Our schooling system keeps us far away from practical life. We are only taught to memorize things, not to understand them and derive the meaning from them for which we are studying.
That is all I want to know from you.
لیکن اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو پرائیویٹ کمپنیز کبھی بھی سفارش پر نوکری نہیں دینے والی ہیں کیونکہ ہر انسان اپنے یا پھر اپنے عزیز لوگوں کے لیے کام کرتا ہے اور انسان زیادہ تر وہی کام کرتا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو اس طرح کے انسٹیٹیوٹ یا پھر کمپنی انٹرسٹ کے لیے کام کرتے ہیں اگر پرائیویٹ کمپنی میں موجود لوگ جو اوپر والے درجوں پر ہوتے ہیں سفارش پر لوگ انسٹیٹیوٹ میں رکھ لیں تو ان کی پروڈکشن پر برے اثرات مرکب ہوں گے جو لوگ اوپر والی جابز پر ہیں ان کو بھی ایفیکٹ ہوگا اس کو اپنی نوکری بچانے کے لیے پروڈکشن کو زیادہ کر کے دکھانا ہے اس کے لیے وہ لوگ چاہتے ہیں جو لوگ قابل ہوں وہ ہی ان کی کمپنی کا حصہ بنے اور وہ ان کے کمپنی کے معیار پر پورے اتریں یہاں پر بات وہی ا جاتی ہے کہ ہمیں ہمارے ایجوکیشن سسٹم میں ہی غلطی ہے جو کہ ہمیں اس طرح کی کمپنیز سے بہت دور لے جاتی ہے اور ہم واپس سفارشوں بھی نوکری پر ا جاتے ہیںہمارا سکولنگ سسٹم ہمیں پریکٹیکل زندگی سے بہت دور رکھتا ہے ہمیں صرف چیزوں کو رٹے لگانے سکھائے جاتے ہیں نہ کہ ان کو سمجھیں اور ان سے وہ مطلب اخذ کریں جس کے لیے ہم پڑھ رہے ہیں
میری طرف سے بس اتنا ہی میں اپ کی رائے جاننا چاہتی ہوں
Thank you